Sale!

Aye Ghauth Meray | اے غوث مِرے

$1,100.00 $550.00

نام کتاب: اے غوث مِرے۔
مصنف: ڈاکٹر عازم بیگ قادری۔
پبلشر: جیلانی اینڈ کمپنی زیرِ مسلم مسجد بیرون لوہاری گیٹ، لاہور۔

زیرِنظر مجموعہ میرے ہاتھ میں ہے۔ میری خوش قسمتی کہ مجھے اسے پڑھنے اور اس کے اسرار و رموز سے تھوڑی بہت واقفیت کا موقع ملا۔ میں جتنا اس علم کے سمندر بیکراں میں غوطے لگاتی گئی اتنی ہی بار ایک نیا موتی میرے ہاتھ لگتا گیا۔
’’اے غوث مِرے‘‘ میں حضرت صاحب نے نہ صرف شعری صنف کو وسعت دی بلکہ اپنی پاکیزہ سوچ اور لفظوں کے خوبصورت تال میل نے عجب سا سماں باندھ دیا۔ عنوان سے پہلا تاثر یہ مِلا کہ شاید میں اس کی زبان اتنی نہ سمجھ پاؤں جیسی کہ کسی عام غزل یا نثری اندازِ بیان کی ہوتی ہے لیکن مطالعہ کرنے سے حیرتوں کے دَر وا ہوتے گئے۔ اتنی سہل زبان، تسلسل اور چاشنی شاید ہی آج کل کسی شعری مجموعے میں نظر آئے۔ ان کے کلام کی سب سے پہلی خصوصیت یہ سامنے آئی کہ بھاری بھرکم الفاظ کا سہارا لینے کے بجائے انتہائی نرم و لطیف اندازِ بیان اختیار کر کے پڑھنے والوں کو آسانی مہیا کی گئی ہے اور لطف یہ کہ ہر شعر اپنے اندر ایک جہانِ معانی چھپائے ہوئے ہے۔
لفظوں کی عبارت ہے مطالب کے بھنور ہیں
بات ایک ہے پہچان کے معیار بہت ہیں
اس دھند میں اب دیکھے کوئی دیکھے تو کیا کیا
قیمت لگے اذہان ہیں افکار بہت ہیں
اس اندازِ تکلم پر یہ فکری سوچ اور شعر کی کیفیت۔ گویا پڑھنے والا ہر لفظ کو اپنے ہی دل کی واردات خیال کرتا ہے۔ معاشرے کے تند و خیز، بےرحم تھپیڑے اور انساں کا حیواں ہو جانا اپنے آپ میں ایک حادثہ ہے مگر جس تحمل، نرم خوئی سے محمد امین عازم بیگ نے معاشرے کی بدصورتی کو خوبصورتی سے بیان کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
اُمید واثق ہے کہ یہ شعری مجموعہ قاری کو یوں اپنے سحر میں گرفتار کرے گا کہ ’’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘ کے مصداق ایک بار اسے شروع کرنا قاری کے ہاتھ میں ہو گا مگر باقی فیصلہ یہ کتاب کرے گی۔
(تبصرہ نگار: عافیہ مقبول جہانگیر)

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Aye Ghauth Meray | اے غوث مِرے”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close